وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

وقت کے پاس گروی رکھی آنکھ سے

آئینہ دیکھ کر کو ن مسرور ہو!

کون متروک لفظوں سے نظمیں لکھے

کون حرفِ ستائش پہ ممنون ہو

ہو تفکر کہاں کس جگہ خیمہ زن؟

جب تنابیں زمیں کی ہیں اکھڑی ہوئی

کیسے شبدوں میں سمٹے خلاوں کا غم

رات اور دن کے بوسیدہ زندان میں

کون بجھتے ستاروں سے محظوظ ہو

کیوں تخیل کی بازی گری میں رہیں

میرا امکان بن کر مری بے بسی

شام بے گھر ہے اور بادلوں کا فضا میں ٹھکانہ نہیں

نقش بر آب ہے موج انفاس کی

ایک بیتے ہوئے خواب کے سائے میں

جھیلتی ہے مجھے میری موجودگی

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s