میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں

میرے ابو جب کام پر جاتے

تو ان کے واپس لوٹ آنے تک

صحن میں دھول اڑاتی مٹی سانسوں میں خدشے بھرتی تھی

امی خود بھی چپ چپ رہتیں، ہم بھی شور نا کرنے پاتے

گھر کی دیواروں پر لکھی خوف کی بھاشا پڑھ سکتی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ۔۔۔

پانچ نمبر کی پھولوں والی ایک گلی میں

کالج کے اک اسٹوڈنٹ کی لاش پڑی ہے! دہشت گرد ہے

میرے سہیلی کے ہاتھوں میں اس کا خط ہے، جس پہ لکھا ہے!

’’زندہ رہا تو عشق کروں گا‘‘

بیچ صدر میں ۔۔۔ بندوقوں کی تڑ تڑ تڑ میں

میں کالج کے ڈیسک کے اوپر کھرچ کھرچ کر لکھ آئی تھی

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں ۔

میرے دادا دکن سے اخبار، کتابیں اور مصلّہ لائے تھے

اور میری دادی! ساڑھی، خاموشی اور آنسو ۔۔۔

ان کے چہرے کی جھریوں میں جذب اداسی اور ہجرت

میں اپنی ہری رگوں میں، شریانوں میں اور جسم کے ہر خلیے میں سمو چکی ہوں

میں نے کراچی کی گلیوں سے عشق کیا ہے

مجھ میں میرا کل زندہ ہے، مجھ میں میرا ٓج بپا ہے

میں ایک مہاجر کی بیٹی ہوں اورمیرے بچوں کا ورثہ ہے

جنگ بقا کی ۔۔۔

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s