مال روڈ سے گزرتے ہوئے اک نظم

اس رستے پر دو جسموں کا اک سایہ تھا!

اور دو روحوں کا اک مسلک!

گونج رہا تھا اس رستے پر حرف کا پہلا سنّاٹا

دھڑکن کی تسبیح مسلسل اسم انوکھے پڑھتی تھی

رسوائی کی شوخ ہوائیں بے باکی سے رقصاں تھیں

اس رستے پر گہرے بادل دھوپ کرن سے لڑتے تھے

خواب کے پنچھی انجانی سمتوں میں اڑانیں بھرتے تھے!

پھولوں نے خوشبوکا منتر پھونک دیا تھا سینوں پر!

اس رستے پر تم تھے (شاید خود سے ناواقف)

اس رستے پر میں تھی! اور میں تم میں شامل تھی

زادِ سفر میں ایک تھکن تھی، ایک دکھن اور ایک یقیں!!

ہر قلب سرائے ہوتا ہے اور نے ہی گزر گہہ ہر رستہ

کچھ رستوں سے لوٹ بھی جائیں، دور نہیں جا سکتے ہم

کچھ منظر بن جاتے ہیں نادیدہ حصہ آنکھوں کا

کچھ لمحوں کی قید ہمیشہ دل کو کاٹنی پڑتی ہے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s