قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور

دور کہیں

چڑیا کو سانپ نگلتا ہے

سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں

اور زہر اترتا جاتا ہے

لمحات کے نیلے قطروں میں

کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن اور ۔۔۔ من بھیتر

اک چیخ سنائی دیتی ہے

جلتی پوروں میں کانپتی ہے

بے مایہ لمس کی خاموشی

اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں میں عشق بدن کی مٹی پر

اس کی آنکھوں کے گورستاں میں دیکھتی ہوں اک قبر نئی

اور شہزادے کے سینے پر سر رکھ کر سو جاتی ہوں

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s