فسونِ خواب

بہ رنگ کیف و سرشاری حدیثِ دل کہو ہمدم!

ہمہ تن گوش ہے ساعت

شرابِ شب اترتی ہے بہت آہستہ آہستہ

سفالِ خواب میں مدھم

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو! یوں خلوتِ جاں میں بلوریں چوڑیاں چھن چھن چھنکتی شور کرتی ہیں

مرا دل ڈول جاتا ہے

وفورِ حسن میں لپٹی تمھاری عنبریں زلفیں ۔۔۔

دھڑکنا بھول جاتا ہے

کہو! کاجل سیہ کاجل دھنک رنگوں کا میلہ ہے

کہو! پوریں خیالوں کی سنہری جلد میں جلتے دیوں پر رقص کرتی ہیں

صراحی دار گردن پر دمکتی نقرئی مالا ۔۔۔ تمھارے کان کی بالی ۔۔۔ یہ جادوگر!

یہ عشوہ گر

طلب کی بے زبانی کو عطا کرتے ہیں گویائی

تمھیں اس پل اجازت ہے

کہو یوں بھید کے جیسے سرکتا رات کا آنچل ہوا میں سرسراتا ہے

ستارا شوق کا میری نظر میں جھلملاتا ہے

کہو! کہ موسمِ گل ہے، گلابوں کی قطاروں میں دمکتے شبنمی لمحے

تمھارے لمس کے پیاسے

بہر موجِ نفس ٹھہرا سکوتِ شوق کاموسم تمھیں آواز دیتا ہے

تمنا گیت کی صورت لبوں پر گنگناتی ہے

محبت بے محابا ایک لمحے کو ترستی ہے

تمنا بے خبر! غافل ۔۔۔

فسونِ خواب کی مدّت بہت تھوڑی بہت کم ہے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s