عشق

ہوا ہو ایملی تم اور!

ہواؤں کو تو ساری داستاں معلوم ہوتی ہے

وہ مٹی خاص ہوتی ہے کہ جس پہ عشق کی بارش برستی ۔۔۔

جذب ہوتی ہے

جہاں بے داغ سبزہ پھوٹتا ہے نرم،

پاکیزہ

جہاں پرآرزو کی باوضو کلیاں چٹکتی ہیں

ہوا تو چھو کے خوشبو کا بدن محسوس کرتی ہے

ہوا کا لمس تو گم گشتہ جوہر ڈھونڈ لیتا ہے

مقدّس عشق کی مٹی! ستودہ اور

خوابیدہ

کسی کا رنگ جب اپنی تہوں میں گھول لیتی ہے

چھڑایا جا نہیں سکتا، مٹایا جا نہیں جا سکتا

ہوا ہو جانتی ہو تم یہ ساری رنگ آمیزی

یہ مٹی اک دفعہ منسوب ہو جائے کسی سے گر

تو بیچی جا نہیں سکتی، خریدی جا نہیں سکتی

حضورِ عشق میں رکھ کر قدم دل سیکھ لیتا ہے

سرِ تسلیم خم کرنا

یہاں اک پل کی غفلت، اک ذرا سی جنبشِ ابرو

زمینوں آسمانوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے

غرض کا بیج اس مٹی میں بویا جا نہیں سکتا

ہوا ہو جانتی ہومیری فطرت

بھید میرے تم

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s