شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں ۔۔۔ گیت

شہد ہے وقت کے نقرئی جار میں

ذائقے دار ہے رات کی امرِتی

فصل گندم کی تیار ہے!

بھوک ہے

من کی وحشی دِواروں سے چمٹی ہوئی زرد رُو اشتہا!

سبز ہونے کو بے تاب ہے بے طرح

سر پٹکتی ہے سانسوں میں پیاسی ہوا

آؤ نا، آؤ نا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

لاؤ نانِ جویں خلوتِ خاص میں

خواب کی سرخ مئے اور چھلکاؤ نا!

آؤ نا

آس کے باغ میں ناچتا ہے مگن مور آواز کا

دھن دھنا دھن دھنا، دھن دھنا دھن دھنا

آؤ نا، آؤ نا

کتنی منہ زور ہے چاہ تکمیل کی

چاٹتی ہے لہو بے طر ح تشنگی

اس دھندلکے میں لپٹا ہوا اک یقیں!

اک گماں!!

نظم ہو؟ گیت ہو؟ جوئے تخلیق ہو؟

تلخ لذّت میں ڈوبا ہوا حرف ہو؟

جو بھی ہو!!

پاٹنا ہے تمھیں ایک اندھا خلا

آؤ نا ۔۔۔ ۔

آؤ نا ۔۔۔ ۔

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s