رت جگے کے اداس منظر میں

رت جگے کے اداس منظر میں

اُس کی خوشبو ہے اس کی آہٹ ہے

اُس کے انفاس کی تھکاوٹ ہے

خواب کے قفل کھولتی ہوں میں

اس کی آواز اوڑھتی ہوں میں

کیسی بے خود ہیں ساعتیں توبہ!

اُس کے لہجے کی لکنتیں توبہ!!

میری بالی سے کھیلتا ہے وہ

میرا تعویز کھینچتا ہے وہ

بے ادب شوق کے اجالے میں

دور تک بس میرے تصور میں

اُس کا سایہ ہے، اس کی باتیں ہیں

اُس کی دھڑکن ہے، اُس کی سانسیں ہیں

کیوں مگر خواب کے دھندلکے میں

اُس کی صورت نظر نہیں آتی

میری بے تاب دھڑکنیں اس کو

چھونا چاہیں تو چھو نہیں پاتیں ۔۔۔

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s