خواب ہو تم

یہ دھڑکتی ہوئی ساعتوں کے لئے

رنگ بھرتے ہیں جذبوں کا انفاس میں

بس گھڑی دو گھڑ ی

تشنگی اوس پیتی ہے گلزار سے

خوشبوئیں جا لپٹتی ہیں اشجار سے

عارضی طور پر

ہے مِرے علم میں

ریت راہی کے پیروں کا کوئی نشاں

دیر تک اپنے دامن میں رکھتی نہیں

خواب ہیں پل دو پل کا حسیں آسرا

جانتی ہُوں مگر ۔۔۔ ۔!!

خواب ہو تم مِرا

خواب ہو تم مِرا

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s