تکمیل

’’تمھیں ثابت کرنا ہو گا کہ تم ہو‘‘! اس نے مجھے جھنجوڑا

’’مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی‘‘ میں نے احتجاج کیا

اُس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! ’’تم سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ‘‘

’’ٹھہرو ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے ۔۔۔ ۔۔۔ تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں ‘‘

اس نے گھبر ا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور زرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پُر جوش ہو کر بولا

’’دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو‘‘

’’ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں ‘‘

اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔ ۔۔۔ ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیں

اس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا

’’دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو‘‘

’’مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی‘‘میں نے دہائی دی

وہ غصے سے کانپنے لگا ۔۔۔ ۔۔ پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا

’’خود کو ثابت کروخدارا، نہیں تو میں مٹ جاوں گا! ہماری تکمیل ضروری ہے‘‘

’’ناگزیر ہے‘‘! میں نے تائید کی

آؤ میں تمھیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محرو م ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے‘‘

’’ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہو گی‘‘اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا

۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اور پھر ہم نے دیکھا ۔۔۔ رنگ ۔۔۔ روشنی ۔۔۔ سبزہ ۔۔۔ مایہ ۔۔۔ حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی

جاگیریں تھیں

باہر تو صرف دھواں تھا

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s