تو رقص کر

مرے قریب رک چکی ہے نبضِ کا ئنات بھی
ہے پرتوِ ممات اب یہ رشتۂ حیات بھی
رہا عجیب التواء کہ جاں بلب ہے ہر صدی
جمود کا شکار ہے الم مرا، خوشی مری
خیال ہیں نہ خواب ہیں جمال ہے نہ روشنی
تمدن و طریق بن گئی ہے پارسائی بھی
یہ جبر ہے کہ بندگی؟ یہ عیب ہے کہ زندگی؟
بہار ڈھونڈتی پھرے نشاطِ رنگ و بو یہاں
یہ طرز یہ چلن مٹا! کہ ہم نہیں فرشتگاں
فنونِ جاوداں جو رنگ ِروح کو نکھار دیں
وہ ہنر وہ آگ دے! وہ جبیں وہ آستاں
بقا کا ساز چھیڑ دے! یہ دن فنا کے پھیر دے
ہے بے ثمر یہ مستقل تو ارضِ دل کو خیر دے
یہ بحرِ موج جھومتی ہے دیکھ اضطراب میں
تھی کن فکاں کی جو صدا وہ تھی اسی حباب میں
پئے دوامِ زیست ہے یہ ناچتا ہوا لہو
یہ کہکشاں کا وصف ہے خلائے بے حساب میں
تو رقص کر کہ جاگنے لگے یہ خطۂ زمیں
کھلے وہ بابِ دل ربا جو فکرپہ کھلا نہیں
تو رقص کر جلو میں لے کہ دو جہان ہم نشیں
یہ سلسلہ دھمال کا ازل سے ہے رکا نہیں
تو رقص کر کہ دھڑکنوں کا زیرو بم لگے حسیں
ہو وجد و کیف وہ عطا وہ حظ جو کھوکھلا نہیں
تو رقص کر کہ گھنگروؤں سے آشنا ہو یہ زمیں
ہرا ہو فرشِ آگہی جو دور تک ہرا نہیں
تو رقص کر کہ آس کا دیا کوئی جلے کہیں
وہ داغِ دل بھی دھل رہے جو مدّتوں دھلا نہیں
تو رقص کر کہ فجر کا، زوالِ شب کا ہو یقیں
ملے یونہی ولے خدا جو آج تک ملا نہیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s