اپریل بہار کا استقبال کرتا ہے

فروغِ شادابیِٔ چمن کو مہکتی مٹی سے پھوٹ نکلا ہے نرم سبزہ

حریصِ تخلیق نم زمیں نے گلوں سے دامن اداس بیلوں کے بھر دیے ہیں

عجیب رت ہے! کہ بوڑھی شاخوں میں سانس لیتا ہے سبز جوبن

خیالوں، خوابوں کی رہگزر پرچٹک رہی ہیں ہزار کلیاں

نگاہِ دل کے گزیدہ گوشے رہینِ نکہت

فضا کی پوروں میں جاگ اٹھی ہے بھینی خوشبو، ہوا کے ہاتھوں میں روشنی کے جڑاؤ کنگن

ہوا کے پیروں میں رقص کرنے لگے ہیں گھنگرو

پرندے رنگین شام اوڑھے شفق کی سرخی سے کھیلتے ہیں

دمکتے پانی میں غسل کرتے ہیں چاند تارے

نہاتی کلیوں کی بے لباسی کو کتنی حیرت سے دیکھتا ہے

نفیس پتّوں کی شال اوڑھے گھنیرا جنگل

گلاب کے سرخ پیرہن پر، سفید پھولوں کی پتیوں پر!

سماعتِ شب میں ثبت کرتی ہے اوس یوں جلترنگ نغمے

کہ گیت وہ جو ازل سے بے کل فضا میں گم تھے

اترنے لگتے ہیں دھڑکنوں کی حسین لے پر، محبتوں کے امین بن کر

ملن کی ایسی صبیح ساعت میں حسن دیتا ہے آپ دستک

تمھارے درپر ۔۔۔

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s