آپ بیتی

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

گزر گاہوں کی ویرانی، گھروں کی نے نوائی اور بازاروں کی خاموشی

لکھو جب دھوپ ملتی ہے بدن پر سانولی لڑکی

بھرے چھابے میں خوابوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں

لکھو جب جھیل میں ہلکورے لیتی کشتیوں میں جال بے مقصد مچھیروں سے الجھتے ہیں

کناروں پر بنے بے دم گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں

بوقتِ عصر اٹھتا ہے دھواں محصور جنگل سے

بھٹکتی پھر رہی ہوں جیسے روحیں سبز پیڑوں میں

لکھو مزدور اپنے رات دن چُنتے ہیں اینٹوں میں

سہاگن آس کا سرمہ نہیں بھرتی ہے آنکھوں میں

منڈیروں پر رکھے کونڈوں میں پانی سوکھ جاتا ہے

رسوئی سے نہیں اب اٹھتی خوشبو گرم روٹی کی

پروں میں چھپ کے موروں کے وبائیں رقص کرتی ہیں

لکھو بے دل ہواؤ شام کی مغموم سرخی سے

مرے شہروں کا، قصبوں کا مرے صحراؤں کا نوحہ

بسی ہے خون کی بو کوہساروں، ریگزاروں میں

لکھو بارود بھرتا جا رہا ہے کچے ذہنوں میں

کتابیں، بچے، بستے، پیرہن سب خاک آلودہ

لکھو نسلوں کے مستقبل کو جس نے پھونک ڈالا ہے

نہیں کی نذرِ آتش آپ بیتی وہ بزرگوں نے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s