آخرِشب

کوئی دستک مسلسل ہے، کہیں ہے مستقل آہٹ

ہوا کا شور ہے شاید

کبھی محسوس ہوتا ہے سنہرے خشک پتوں میں سے گزرا سانپ کا جوڑا

پرندہ کوئی سہما ہے

فضا میں سرسراہٹ ہے

مرے اندر بھٹکتی ہے کوئی آواز یا! شاید

بلاتیں ہیں مجھے اِس دم بچھڑنے والوں کی یادیں

وہ جن پر زندگی اک خوف کی صورت مسلّط تھی

کبھی کے ہار کے اس زندگی سے روٹھ بیٹھے جو!

کبھی لگتا ہے یوں جیسے کسی تاریک بستی میں

چلی آندھی!

قضا آئی

اجل شاید مری کھڑکی تلک ۔۔۔ بستر تلک آئی

ستارے ڈوبنے کو ہیں

اندھیرا بین کرتا ہے

خدارا ۔۔۔ نیند کا غلبہ

دیے کی لو بھڑکتی ہے

بجھاکر آخری لمحہ

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s