آئی وش

کاش میں پلومیریا ہوتی

شفاف اور بے داغ پھول

دن میں دھوپ نہاتی اور رات بھر چاند کی کرنوں سے اٹکھیلیاں کرتی

میرا کوئی مذہب ہوتا، نہ زبان، نہ فرقہ، نہ رواج

کاش میں زمینوں، پانیوں، فضاؤں اور ذہنوں کو کاٹنے والے سازشیوں کے قبیل سے نہ ہوتی

میں بھی عصبیت، وطنیت اور تعصب سے پاک

باوضو آنکھوں کے لیے ایک تحفہ ہوتی

بطور اشرف المخلوق اس خوبصورت سیّارے کی تباہی کا باعث بننے کے بجائے

میں ایک بے ضرر پلومیریا ہوتی

جس کی تخیلق کا واحد مقصد

کائنات کے حسن میں اضافہ کرنا

مسّرت باٹنا، فرحت اورتازگی بخشنا

اور ہوا کی ہتھیلی پر خوشبو کی نظم لکھ کر

رخصت ہو جانا ہوتا ۔۔۔

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s