ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 24
خوابوں کا کوئی سرا نہیں ہے
ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

سانسوں میں کسک ہے اجنبی سی
اس نے تو ابھی چھوا نہیں ہے

تا دور غبار اڑ رہا ہے
ہونے کو تو کچھ ہوا نہیں ہے

پھر رات کی سر زمیں ہے میں ہوں
اور ہاتھ میں پھر دیا نہیں ہے

اک خواب کی لَو ہے چشمِ تر میں
تصویر میں کچھ نیا نہیں ہے

بیدار ہیں شہر کی ہوائیں
وہ شخص ابھی گیا نہیں ہے

صحرا میں گھٹا برس رہی ہے
یہ وقت مگر مرا نہیں ہے

میں وقت سے چل رہی ہوں آگے
تا دور کوئی صدا نہیں ہے

سرشار ہوں شعر کہہ کے نیناؔ
کچھ اور اگر صلہ نہیں ہے

نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s