کچھ خدا بول رہا ہے شاید

نینا عادل ۔ غزل نمبر 9
خامشی نغمہ سرا ہے شاید
کچھ خدا بول رہا ہے شاید
کتنی زرخیز تیری مٹی ہے
تجھ کو پیڑوں کی دعا ہے شاید
عکس لرزاں ہے میرا سرتا پا
آئینہ ٹوٹ رہا ہے شاید
کب تلک خود کومٹاؤں لکھ کر
اب ورق پھٹنے لگا ہے شاید
آگ ہے تو، میں ہرا جنگل ہوں
موڈ میں اور ہوا ہے شاید
لوَ بھڑکتی ہے دیے کی بے کل
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
کھول کر دیکھ تو لو دروازہ
کوئی باہر ہی کھڑا ہے شاید
فاصلہ طے نا ہوا کیا کیجیے
درمیاں کوئی خلا ہے شاید
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s