موت گہرا سکوت ہے ہمدم

نینا عادل ۔ غزل نمبر 2
شور موجود کا کرے گی کم
موت گہرا سکوت ہے ہمدم
ضعف کم مائیگی سے ڈرتا ہے
ہاتھ سے گر پڑے نہ دو عالم
میرے آنسو ہیں میری شادابی
فصلِ گُل مانگتی ہے مٹی نم
کس نے حسنِ سلوک یہ پایا؟
کس نے کانٹوں پہ ٹانک دی شبنم
دھڑکنیں خامشی کا نغمہ ہیں
زندگی اک لطیف زیروبم
کیوں دوں الزام یہ زمانے کو
مجھ میں خود پل رہے تھے میرے غم
آو نیناؔ شمار کرتے ہیں
راہ میں ہیں تمھاری کتنے خم
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s