سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری

نینا عادل ۔ غزل نمبر 18
میں ترا درد، ترا مرض، دوا بھی تیری
سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری
اک اشارہ جو ترے حق میں کیا جائے تو
بوئے گل، رنگِ چمن، موجِ صبا بھی تیری
خواب میں تجھ کو محبت کی بشارت ہو گی
یہ صلہ بھی ہے بیک وقت سزا بھی تیری
عمر بھر تجھ سے ہوا چاہتی ہے جو سر زد!!
در گزر کر دی گئی ہے وہ خطا بھی تیری
اے دیے! بجھتے ہوئے دیکھا گیا تھا تجھ کو
تیرے انکار میں شامل تھی رضا بھی تیری
ہاتھ رکھتے ہوئے اک دل پہ کہا جاتا ہے
چھین لی جائے گی تجھ سے یہ جگہ بھی تیری
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s