خوا ب ہوں ہے مجھے ٹوٹ جانے کا ڈر

نینا عادل ۔ غزل نمبر 10
بس گھڑی دو گھڑی جھلملانے کا ڈر!!
خوا ب ہوں ہے مجھے ٹوٹ جانے کا ڈر
دل سے گڑیوں کے تا عمر نکلا نہیں
کھیل کے بعد قیمت گنوانے کا ڈر
خامشی بھید کے خوف سے زرد ہے
اور باتوں کو ہے اک فسانے کا ڈر
ڈھونڈتی ہے مجھے میری ماں کی نظر
وہ شرارت وہ پٹنے پٹانے کا ڈر
جل اٹھی سر پھر ی آگ ہم میں کہیں
راکھ میں دب گیا سر اٹھانے کا ڈر
سچ تو یہ ہے کہ تو سچ سنے گا نہیں
اور اس پر ترے روٹھ جانے کا ڈر
بال وپر میں کہیں سو رہا ہے ابھی
آخری مرتبہ پھڑپھڑانے کا ڈر
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s