جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 8
ہونٹوں پہ میرے نام ترا آ کے رہ گیا
جی فرطِ احتیاط سے گھبرا کے رہ گیا
شرطیں تھیں انجذاب کی اتنی کڑی کہ بس
ہر عکس آئینے سے ہی ٹکرا کے رہ گیا!
صدیاں ہوئیں کہ تیری نہیں اس نے لی خبر
معبد میں دیوتا ترا پتھرا کے رہ گیا
اس یارِ طرح دار کی خاموشیوں میں تھا
ایسا سخن کہ حرف بھی شرما کے رہ گیا
کیسا لگاؤ! کیسی محبت جہان سے!!
دل یار دوستوں سے بھی کترا کے رہ گیا
اک خواب میں بدل گئیں ساری حقیقتیں
ہر عکس ایک عکس میں دھندلا کے رہ گیا
دل نے بنایا کیا اسے مہمان ایک دن
نیناؔ وہ دلنواز ’’یہیں ‘‘ آ کے رہ گیا
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s