تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!

نینا عادل ۔ غزل نمبر 16
اورے سوالی بول سخی ہو گا اس کے جیسا کوئی؟
تیرا کاسہ بھرتے بھرتے خالی ہو بیٹھا کوئی!!
جانے جی میں آئی کیا! خود پاؤں میں ڈال لیا پھندا
تجھ کو پنچھی جال بچھاتے دیکھتا رہتا تھا کوئی!
من بھیتر جلتی بتیاں اور جاگنے لگتی تھیں رتیاں
دھیمے سروں میں گیت ملن کے ایسے گاتا تھا کوئی
اے قصّہ گو! ساری کتھائیں تیری سن لی ہیں ہم نے
تجھ سے بڑھ کر جھوٹا ہے اور نا تجھ سا سچا کوئی!
اس کے محل میں گونج رہا تھا جب مقتل کا سناٹا!!
شہزادی کے ماتھے پر کیا تم نے بل دیکھا کوئی؟
سوچا کرتا پھینک دوں اک کھائی میں مسافت اور ساماں
گٹھری اٹھائے روز و شب کی اتنا تھک جاتا کوئی
سب کو بھول کے دو سائے یوں اک دوجے میں سمٹ گئے
جیسے خواب ہو جگ سارا، جیسے جیون سپنا کوئی
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s