تیرا چھونا، ستانا لڑنا سب

نینا عادل ۔ غزل نمبر 1
اچھا لگنے لگا ہے مجھ کو اب
تیرا چھونا، ستانا لڑنا سب
خود کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا
میرے پہلو سے وہ اٹھے گا جب
بور کرنے لگے گا باغیچہ
ہم بہت گھوم لیں گے اس میں جب
اک دیا آس کا جلا لوں کیا؟
مجھ میں ہونے لگی ہے گہری شب
آپ آبِ بقا ہیں امرت ہیں
آپ پیاسے مگر ہمارے لب
سچے موتی چھپائے رکھتے ہیں
ہیں انوکھے سمندروں کے ڈھب
درد دے، کرب دے اذیّت دے
ہم سکوں مانگتے ہیں تجھ سے کب
ہم تو ہیں روشنی کے پروردہ
ہم سے کیا پوچھتے ہونام ونسب
نینا عادل

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s