کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s