تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s