ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 84
صنم تراش پر آدابِ کافرانہ سمجھ
ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ
میں تجھ کو مانگ رہا ہوں قبول کر کہ نہ کر
یہ بات تیری مری ہے اسے دعا نہ سمجھ
پلٹ کے آئے گا وہ بھی گئی رتوں کی طرح
جو تجھ سے روٹھ گیا ہے اسے جدا نہ سمجھ
رہِ وفا میں کوئی آخری مقام نہیں
شکستِ دل کو محبت کی انتہا نہ سمجھ
ہر ایک صاحبِ منزل کو با مراد نہ جان
ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ
فراز آج کی دنیا مرے وجود میں ہے
مرے سخن کو فقط میرا تذکرہ نہ سمجھ
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s