سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 96
چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی
لباسِ غم میں تو وہ اور بن گیا قاتل
سجی ہے کیسی، کسی پر قبا اداسی کی
غزل کہوں تو خیالوں کی دھند میں مجھ سے
کرے کلام کوئی اپسرا اداسی کی
خیالِ یار کا بادل اگر کھلا بھی کبھی
تو دھوپ پھیل گئی جا بجا اداسی کی
بہت دنوں سے تیری یاد کیوں نہیں آئی
وہ میری دوست میری ہمنوا اداسی کی
فراز نے تجھے دیکھا تو کس قدر خوش تھا
پھر اُس کے بعد چلی وہ ہوا اداسی کی
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s