بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 97
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی
بجا کہ چشمِ طلب بھی ہوئی تہی کیسہ
مگر ہے رونقِ بازار اب کہاں تو بھی
ہمیں بھی کارِ جہاں لے گیا ہے دور بہت
رہا ہے در پۓ آزار اب کہاں تو بھی
ہزار صورتیں آنکھوں میں پھرتی رہتی ہیں
مری نگاہ میں ہر بار اب کہاں تو بھی
اُسی کو وعدہ فراموش کیوں کہیں اے دل
رہا ہے صاحبِ کردار اب کہاں تو بھی
مری غزل میں کوئی اور کیسے در آۓ
ستم تو یہ ہے کہ اے یار، اب کہاں تو بھی
جو تجھ سے پیار کرے تیری لغزشوں کے سبب
فراز ایسا گنہگار اب کہاں تو بھی
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s