مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 70
منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں
مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں
کوئی مقصد ہو کہ ناصح، کوئی عاشق کہ عدو
سب کی اُس شوخ سے وابستگیاں ایک سی ہیں
دشتِ مجنوں میں نہ سہی تیشۂ فرہاد سہی
سفرِ عشق میں واماندگیاں ایک سی ہیں
یہ الگ بات کہ احساس جُدا ہوں ورنہ
راحتیں ایک سی، افسردگیاں ایک سی ہیں
صوفی و رند کے مسلک میں سہی لاکھ تضاد
مستیاں ایک سی، وارفتگیاں ایک سی ہیں
وصل ہو، ہجر ہو، قربت ہو کہ دُوری ہو فراز
ساری کیفیتیں، سب تشنگیاں ایک سی ہیں
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s