چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 42
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s