وہ تو کوئی دریا لے آیا دریا بھی سیلاب بھرا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 7
دکھ کی دو اک برساتوں سے کب یہ دل پایاب بھرا
وہ تو کوئی دریا لے آیا دریا بھی سیلاب بھرا
سوچا تھا غم کو غم کاٹے زہر کا زہر بنے تریاق
اب دل آبلہ آبلہ ہے اور شیشئِہ جاں زہراب بھرا
تم آ جاتے تو اس رات کی عمر بھی لمبی ہو جاتی
ابھی تھا دیواروں پر سبزہ ابھی تھا صحن گلاب بھرا
جانے ہجر کی رات کہ وصل کی رات گزار کے آئے ہو
آنکھیں نیندوں نیند بھری ہیں جسم ہے خوابوں خواب بھرا
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s