اگر چلا ہے تو جو کچھ مجھے دیا لے جا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 6
وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جا
اگر چلا ہے تو جو کچھ مجھے دیا لے جا
مقامِ سُود و زیاں آ گیا ہے پھر جاناں
یہ زخم میرے سہی، تِیر تو اٹھا لے جا
یہی ہے قسمتِ صحرا، یہی کرم تیرا
کہ بوند بوند عطا کر، گھٹا گھٹا لے جا
غرورِ دوست سے اتنا بھی دل شکستہ نہ ہو
پھر اس کے سامنے دامانِ التجا لے جا
ندامتیں ہوں تو سر بارِ دوش ہوتا ہے
فراز جاں کے عوض آبرو بچا لے جا
احمد فراز

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s