پاداش

کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہو

تمہیں کیا خبر ہے

وہاں ان گنت کھردرے پتھروں کو

سجل پانیوں نے

ملائم رسلیے مدھر گیت گا کر

امٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہے

وہ پتھر نہیں تھا

جسے تم نے بے ڈول ان گھڑ سمجھ کر

پرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑا

اب اس کے سلگتے تراشے

اگر پاؤں میں چبھ گئے ہیں

تو کیوں چیختے ہو؟

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s