زاویے

رات تھی میں تھا اور اک میری سوچ کا جال

پاس سے گزرے تین مسافر دھیمی چال

پہلا بولا مت پوچھو اس کا احوال

دیکھ لو تن پر خون کی فرغل، خون کی شال

دوسرا بولا۔۔۔۔اور ہی کچھ ہے میرا خیال

یہ تو خزاں کا چاند ہے گھائل غم سے نڈھال

تیسرا بولا۔۔۔بس یوں سمجھو اس کی مثال

اندھیارے کے بن میں جیسے شب کا غزال

ان کی روح تھی خود کالی پیلی اور لال

میرا وجود ہے ورنہ اب تک ایک سوال

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s