دلاسہ

ہم ملے کب تھے

جدائی پر جو ہوں ویراں نگاہ و غم بجاں

ہات میں ہو نرم ہات

لب ہوں لب پر مہرباں

اس پہ کیا موگوف ہے ربطِ بہم کی داستاں

رہگزارِ خاک پر

دور سے دو رویہ پیڑوں کی قطاریں

لاکھ آتی ہوں نظر

اپنے سر جوڑے ہوۓ

درمیاں ان کے مگر

کب نہ حائل تھا غبارِ رہگزر

ہم ملے کب تھے

جدائی پر جو ہوں ویراں نگاہ و چشمِ تر

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s