دعوتِ فکر

کس طرح ریت کے سمندر میں

کشتیِ زیست ہے رواں، سوچو

سن کے بادِ صبا کی سرگوشی

کیوں لرزتی ہیں پتیاں۔۔، سوچو

پتھروں کی پناہ میں کیوں ہے

آئینہ ساز کی دوکاں، سوچو

اصل سر چشمۂ وفا کیا ہے

وجہِ بے مہریِ بتاؓ سوچو

ذوقِ رعمیر کیوں نہیں مٹتا

کیوں اُجڑتی ہیں بستیاں سوچو

فکر سقراط ہے کہ زہر کا گھونٹ

باعثِ عمرِ جاوداں سوچو

لوگ معنی تلاش ہی لیں گے

کوئی بت ربط داستاں سوچو

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s