خداوندان جمہورسے

عروسِ صبح سے آفاق ہمکنارسہی

شکستِ سلسلۂ قیدِ انتظار سہی

نگاہِ مہرِ جہاں تاب کیوں ہے شرمندہ

شفق کا رنگ شہیدوں کی یاد گار سہی

بکھرتے خواب کی کڑیوں کو آپ چن دیجے

کیا تھا عہد جو ہم نے وہ پائیدار سہی

ہجومِ لالہ و ریحاں سے داد  چاہتے ہیں

یہ چاک چاک گریباں گلے کا ہار سہی

گنے جو زخم رگ جاں، شریک جشن حیات

پیے جو ساغرِ زہراب بادہ خوار سہی

چمن میں رنگ طرب کی کوئی کمی نہ رہے

ہمارا خون جگر غازۂ بہار سہی

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s