اند مال

شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں

بادِ مسموم نے توڑ کر کتنے پتے سپردِ خزاں کردئیے

بہہ کے مشکیزۂ ابر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں

غیر ممکن تھا ان کا شمار

تھک گئیں گننے والےہر اک ہاتھ کی انگلیاں

’ان گنت‘ کہہ کے آگے بڑھا وقت کا کارواں

ان گنت تھے مرے زخم دل

ٹوٹی کرنوں، بکھرتے ہوئے زرد پتوں، برستی ہوئی بوندیوں کی طرح

اور مرہم  بھی ناپید تھا

لیکن اس روز دیکھا جو اک طفل نوزاد کا خندۂ زیر لب

زخمِ دل مندل ہو گئے سب کے سب

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s