کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 50
خانۂ دل کی طرح ساری فضا ہے کہ نہیں
کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں
جشن برپا تو ہوا تھا دمِ رخصت لیکن
وہی ہنگامہ مرے بعد بپا ہے کہ نہیں
پوچھتا ہے یہ ہر اک خار سرِ دشتِ طلب
آنے والا بھی کوئی آبلہ پا ہے کہ نہیں
دیکھ تو جا کہ مسیحائے غمِ عشق اُسے
ہاتھ اب تک یونہی سینے پہ دھرا ہے کہ نہیں
دل کے تاریک در و بام سے اکثر ترا غم
پوچھتا ہے کہ کوئی میرے سوا ہے کہ نہیں
میں کہیں ہوں کہ نہیں ہوں، وہ کبھی تھا کہ نہ تھا
خود ہی کہہ دے یہ سخن بے سر و پا ہے کہ نہیں
فیصلہ لوٹ کے جانے کا ہے دشوار بہت
کس سے پوچھوں وہ مجھے بھول چکا ہے کہ نہیں
میں تو وارفتگیٔ شوق میں جاتا ہوں اُدھر
نہیں معلوم وہ آغوش بھی وا ہے کہ نہیں
جانے کیا رنگ چمن کا ہے دمِ صبحِ فراق
گُل کھلے ہیں کہ نہیں بادِ صبا ہے کہ نہیں
اے شبِ ہجر ذرا دیر کو بہلے تو یہ دل
دیکھ عرفانؔ کہیں نغمہ سرا ہے کہ نہیں
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s