چلو اب مان بھی جاو، خدا نئیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 33
گماں کی کھوج کا کوئ صلہ نئیں
چلو اب مان بھی جاو، خدا نئیں
وہ بن جانے سبھی کچھ کہہ گیا تھا
میں سب کچھ جانتا تھا، پر کہا نئیں
جدا ہونا ہی تھا، سو ہو رہے ہیں
ذرا سی بات یے اس کو بڑھا نئیں
مجھے صحرا سے مت تشبیہ دینا
مری وحشت کی کوئ انتہا نئیں
میں سب کچھ جانتا ہوں، دیکھتا ہوں
میں خوابیدہ سہی، سویا ہوا نئیں
نہ آتا تو نہ ہر گز ہم بلاتے
یہاں آہی گیا ہے اب، تو جا نئیں
محبت میں بدن شامل نہ ہوتا
یہ ہم بھی چاہتے تھے، پر ہوا نئیں
مجھے دیکھو، تو کیا میں واقعی ہوں
مجھے سمجھو، تو کیا میں جا بجا نئیں
ملے کیا کیا نہ چہرے دل گلی میں
میں جس کو ڈھونڈتا تھا، وہ ملا نئیں
ہمیں مت ڈھونڈ، پر خواہش کیا کر
ہمیں مت یاد کر، لیکن بھلا نئیں
ہماری خواہشوں میں کوئ خواہش
رہینِ بخششِ بندِ قبا نئیں
میں ایسا ہوں، مگر ایسا نہیں ہوں
میں ویسا تھا، مگر ویسا میں تھا نئیں
عظیم المرتبت شاعر بہت ہیں
مگر ہاں، جون سا شاعر ہوا نئیں
کہیں سبحان اللہ جون جس پر
وہی عرفان نے اب تک کہا نئیں
عرفان ستار

چلو اب مان بھی جاو، خدا نئیں” پر 3 تبصرے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s