میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 30
آج بامِ حرف پر امکان بھر میں بھی تو ہوں
میری جانب اک نظر اے دیدہ ور میں بھی تو ہوں
بے اماں سائے کا بھی رکھ بادِ وحشت کچھ خیال
دیکھ کر چل درمیانِ بام و در میں بھی تو ہوں
رات کے پچھلے پہر پُرشور سناٹوں کے بیچ
تُو اکیلی تو نہیں اے چشمِ تر میں بھی تو ہوں
تُو اگر میری طلب میں پھر رہا ہے در بہ در
اپنی خاطر ہی سہی پر در بہ در میں بھی تو ہوں
تیری اس تصویر میں منظر مکمل کیوں نہیں
میں کہاں ہوں یہ بتا اے نقش گر میں بھی تو ہوں
سن اسیرِ خوش ادائی منتشر تُو ہی نہیں
میں جو خوش اطوار ہوں، زیر و زبر میں بھی تو ہوں
خود پسندی میری فطرت کا بھی وصفِ خاص ہے
بے خبر تُو ہی نہیں ہے بے خبر میں بھی تو ہوں
دیکھتی ہے جوں ہی پسپائی پہ آمادہ مجھے
روح کہتی ہے بدن سے، بے ہنر میں بھی تو ہوں
دشتِ حیرت کے سفر میں کب تجھے تنہا کیا
اے جنوں میں بھی تو ہوں اے ہم سفر میں بھی تو ہوں
کوزہ گر بے صورتی سیراب ہونے کی نہیں
اب مجھے بھی شکل دے اس چاک پر میں بھی تو ہوں
یوں صدا دیتا ہے اکثر کوئی مجھ میں سے مجھے
تجھ کو خوش رکھے خدا یونہی مگر میں بھی تو ہوں
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s