فرد فرد

تعلق کو نبھانے کے بہت دُکھ سہہ چکے ہم
سو باقی عمر اپنے ساتھ رہنا چاہتے ہیں
ایک ملال تو ہونے کا ہے، ایک نہ ہونے کا غم ہے
شہرِ وجود سے بابِ عدم تک، ایک سا ہُو کا عالم ہے
تحیر خیز موجیں ہیں نہ پُر ہیبت تلاطم
عجب اک بے تغیر بے کرانی رہ گئی ہے
تکمیل تو زوال کا پہلا پڑائو ہے
خود کو اسی سبب سے مکمل نہیں کیا
بے رنگ ترے در سے کب، خاک بسر اٹھے
یا پیراہنِ گُل میں، یا خون میں تر اٹھے
چلے آئے ہیں آنکھوں میں کسی کا عکس پا کر
یہ آنسو آج پھر کوئی تماشا چاہتے ہیں
جس دن سے روزگار کو سب کچھ سمجھ لیا
راتیں خراب ہو گئیں اور دن سنور گئے
کچھ آنکھ بھی ہے سطح سے آگے کی کھوج میں
کچھ دل بھی اک خیال میں ڈوبا ہوا سا ہے
بے رونقی سے کوچہ و بازار بھر گئے
آوارگانِ شہر کہاں جا کے مر گئے
ہمیں بھی سودا کہاں تھا ایسا کہ اپنے دل میں ملا ل رکھتے
اگر تُو اپنا خیال رکھتا تو ہم بھی اپنا خیال رکھتے
بہارِ جاں سے تجھے باریاب کر دیں گے
نظر اٹھائیں گے چہرہ گلاب کر دیں گے
خیالِ ترکِ تعلق جو ہو، تو مل لینا
کسی دعا کو ترا ہم رکاب کر دیں گے
اک عکس کھو گیا ہے مرے دن کے پیچ میں
اک خواب میری رات سے الجھا ہوا ساہے
قدم جما نہ سکا رہگزارِ وقت پہ میں
میں اک اُچٹتا سا لمحہ، مری کہانی کیا
زندگی ہم سے ہی روشن ہے یہ آئینہ ترا
ہم جو مشّاطۂ وحشت کے سنوارے ہوئے ہیں
بڑھ کے آغوش میں بھر لے ہمیں اے روحِ وصال
آج ہم پیرہنِ خاک اتارے ہوئے ہیں
متفرق اشعار
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s