تیری یادوں کے جھونکے گزرتے رہے، تھپتھپاتے رہے، اور ہم سو گئے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 64
دل کے پردے پہ چہرے ابھرتے رہے، مسکراتے رہے، اور ہم سو گئے
تیری یادوں کے جھونکے گزرتے رہے، تھپتھپاتے رہے، اور ہم سو گئے
یاد آتا رہا کوچۂ رفتگاں، سر پہ سایہ فگن ہجر کا آسماں
نا رسائی کے صدمے اترتے رہے، دل جلاتے رہے، اور ہم سو گئے
ہجر کے رت جگوں کا اثر یوں ہوا، وصلِ جاناں کا لمحہ بسر یوں ہوا
دوش پر اُس کے گیسو بکھرتے رہے، گدگداتے رہے، اور ہم سو گئے
کیسے تجدیدِ عہدِ وفا کیجئے، غم مزا دے رہے ہیں سو کیا کیجئے
در پہ آ کے وہ اکثر ٹھہرتے رہے، کھٹکھٹاتے رہے، اور ہم سو گئے
اوّل اوّل تو ہر شب قیامت ہوئی، رفتہ رفتہ ہمیں ایسی عادت ہوئی
گھر کے آنگن میں غم رقص کرتے رہے، غل مچاتے رہے، اور ہم سو گئے
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s