اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 101
پھر خون میں وحشت رقصاں ہے تجدیدِ ستم کرنے کے لیے
اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے
ہم دن بھر دنیا داری میں ہنس ہنس کے باتیں کرتے ہیں
پھر ساری رات پگھلتے ہیں اک اشک رقم کرنے کے لیے
وہ وصل کے جس نے ہم دونوں کو ایسے بے بنیاد کیا
اب فرصت ہے آ مل بیٹھیں اُس وصل کا غم کرنے کے لیے
اک کاری زخم کی چاہت نے کیا کیا نہ ہمیں گلزار کیا
ہم کس کس سے منسوب ہوئے اک ہجر بہم کرنے کے لیے
انسان کے جینے مرنے کے مجبوری کے مختاری کے
یہ سارے کھیل ضروری ہیں تعمیرِ عدم کرنے کے لیے
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s