اعلان کردیا گیا میری شکست کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 6
امکان دیکھنے کو رکا تھا میں جست کا
اعلان کردیا گیا میری شکست کا
سائے سے اپنے قد کا لگاتا ہے تُو حساب
اندازہ ہو گیا ہے ترے ذہنِ پست کا
تجھ کو بدن کی حد سے نکلنا کہاں نصیب
سمجھے گا کیسے روح کو آلودہ ہست کا
تُو ہے۔ کہ کل کی بات کا رکھتا نہیں ہے پاس
میں ہوں کہ پاسدار ہوں عہدِ الست کا
جس سے گروہِ بادہ فروشاں حسد کرے
طاری ہے مجھ پہ نشّہ اُسی چشمِ مست کا
جا شہرِ کم نگاہ میں شہرت سمیٹ لے
یہ کام ہے بھی تجھ سے ہی موقع پرست کا
شاہِ جنوں کا تخت بچھا ہے بہ اہتمام
پہلو میں انتظام ہے میری نشست کا
وسعت ملی ہے ضبط کو میرے بقدرِ درد
بولو کوئی جواب ہے اس بندوبست کا؟
عرفان تیری لاج بھی اللہ کے سپرد
ستّار ہے وہی تو ہر اک تنگ دست کا
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s