اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 40
سمجھوتہ کوئی وقت سے کرنے کا نہیں میں
اب ترکِ مراسم سے بھی ڈرنے کا نہیں میں
زنجیر کوئی لا مری وحشت کے برابر
اس حلقۂ مژگاں میں ٹھہرنے کا نہیں میں
کل رات عجب دشتِ بلا پار کیا ہے
سو بادِ سحر سے تو سنورنے کا نہیں میں
کیوں مملکتِ عشق سے بے دخل کیا تھا
اب مسندِ غم سے تو اترنے کا نہیں میں
دم بھر کے لیے کوئی سماعت ہو میسّر
بے صوت و صدا جاں سے گزرنے کا نہیں میں
اب چشمِ تماشا کو جھپکنے نہیں دینا
اس بار جو ڈوبا تو ابھرنے کا نہیں میں
ہر شکل ہے مجھ میں مری صورت کے علاوہ
اب اس سے زیادہ تو نکھرنے کا نہیں میں
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s