یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 14
اب دل ہے مقام بے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
کس کس کو مزا ہے عاشقی کا
تم نام تو لو بھلا کسی کا
پھر دیکھتے ہیں عیش آدمی کا
بنتا جو فلک میر خوشی کا
گلشن میں ترے لبوں نے گویا
رس چوم لیا کلی کلی کا
لیتے نہیں بزم میں مرا نام
کہتے ہیں خیال ہے کسی کا
جیتے ہیں کسی کی آس پر ہم
احسان ہے ایسی زندگی کا
بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا
ماتم سے مرے وہ دل میں خوش ہیں
منہ پر نہیں نام بھی ہنسی کا
اتنا ہی تو بس کسر ہے تم میں
کہنا نہیں مانتے کسی کا
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے
منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت
سارا سودا ہے جیتے جی کا
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت
آنا جانا کبھی کبھی کا
ایسے سے جو داگ نے نباہی
سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
داغ دہلوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s