گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے، سنورنے والے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 43
ایک تو حسن بلا اس پہ بناوٹ آفت
گھر بگاڑیں گے ہزاروں کے، سنورنے والے
حشر میں لطف ہو جب ان سے ہوں دو باتیں
وہ کہیں کون ہو تم، ہم کہیں مرنے والے
غسل میت کو شہیدوں کو ترے کیا حاجت
بے نہائے بھی نکھرتے ہیں نکھرنے والے
حضرتِ داغ جہاں بیٹھ گئے، بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
داغ دہلوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s