گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 89
مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی
گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی
مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی
خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی
کوئی ضد نہ تھی کوچے میں در ہی کے قریں، ہوتی
جہاں پر آپ کہہ دیتے مری تربت وہیں ہوتی
پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا
تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی
اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا
شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی
ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل
یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی
نہ رو اے بلبل ناشاد مجھ کمبخت کے آگے
کہ تابِ ضبط اب دکھے ہوئے دل سے نہیں ہوتی
شبِ فرقت یہ کہہ کر آسماں سے مر گیا کوئی
سحر اب اس طرح ہو گی اگر ایسے نہیں ہوتی
قسم کھاتے ہو میرے سامنے وعدے پہ آنے کی
چلو بیٹھو وفا داروں کی یہ صورت نہیں ہوتی
بجا ہے آپ بزمِ عدو سے اٹھ کے آ جاتے
اگر نالے نہ کرتا میں تو ساری شب وہیں ہوتی
ترے کوچے کے باہر یہ سمجھ کر جان دیتا ہوں
کہ مرتا ہے جہاں کوئی وہیں تربت نہیں ہوتی
شبِ مہتاب بھی تاریک ہو جاتی ہے آنکھوں میں
قمر جب میرے گھر وہ چاند سی صورت نہیں ہوتی
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s