کیا کروں حشر میں ڈر ہے تری رسوائی کا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 15
میں تماشا تو دکھا دوں ستم آرائی کا
کیا کروں حشر میں ڈر ہے تری رسوائی کا
یہ نتیجہ ہو آخر جَبَل آرائی کا
بن گیا ایک تماشا سا تماشائی کا
آپ نے محفلِ اغیار کی رونق تو کہی
مجھ سے کچھ حال نہ پوچھا شبِ تنہائی کا
چارہ گر کا ہے کو لوں چارہ گری کا احساس
تو کوئی ٹالنے والا ہے مری آئی کا
طور پر طالبِ دیدار ہزاروں آتے
تم تماشہ جو نہ بناتے نہ تماشائی کا
ہاتھ اٹھائے تھے کہ ہاروں کی لڑیں ٹوٹ پڑیں
صدقہ پھول نے اتارا تری انگڑائی کا
شمع گل ہو گئی تارے بھی قمر ڈوب گئے
کوئی مونس نہ رہا اب شبِ تنہائی کا
قمر جلالوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s